تپائی

تپائی

  سنسکرت زبان میں تین پائے والی چوکی کو کہتے ہیں جبکہ فارسی زبان میں سہ پائی بھی اسی معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔ انگریزوں کے برِ صغیر  پاک و ہند پر اقتدار سے پہلے یہاں کی دفتری زبان فارسی تھی جو کہ نوابوں، مغلیہ سلاطین کی بھی مادری زبان تھی، اسی پس منظر میں یہ گمان ہے کہ تری پادہ اور سہ پائی کے سنگم سے لفظ تری پائی بنا جو بعد میں تپائی رہ گیا۔  انگریزوں نے بھی اس لفظ کو انگریزی میں   کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن   اس لفظ کی  میں تبدیلی شاید یہ اشارہ کرتی ہے کہ  تپائی  کو انگریزوں نے چائے رکھنے کے لیے استعمال کیا ہو لیکن یہ گمان  زیادہ  قوی نہیں بلکہ کاتب کے قلم کی  لرزش  ہی اس کا سبب ہے۔ لفظ  تپائی برِ صغیر پاک و ہند سے انگریزی زبان کی زینت بنا کیونکہ لفظ  کا استعمال انگریزی ادب میں پہلی مرتبہ ۱۸۲۸ ء میں مذکور ہواحوالہ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری۔ تپائی میز کی اطراف میں رکھی جاتی تھی۔ میز  چونکہ بھاري بھر کم   ہوتی تھی اس لیے وہ کمرے میں ایک ہی جگہ مستقل رکھی جاتی تھی جبکہ تپائی ہلکی اور چھوٹی ہونے کی وجہ سے بہ آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جا سکتی تھی۔ اسی لیے تپائی کو مہمانوں تک چائے لے جانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔  اس کے علاوہ تپائی پر کتب، کاپیاں، فائلیں  اور دیگر سامان ِتحرير رکھا جاتا۔

اوائل وقتوں میں تپائی تین ٹانگوں والی ہوا کرتی ہو گی لیکن جب سے ہم نے ہوش سنبھالا، تپائی کی ہمیشہ چار  ہی ٹانگیں دیکھیں۔ اس ترکیب میں اسے چارپائی کہا جانا چاہیے تھا لیکن لفظ چارپائی  دراصل بستر کے لیے مختص تھا جو سونے کے کام آ تا تھا۔ آج کل تپائی کی جگہ سائیڈ ٹیبل کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ سائیڈ ٹیبل ایک بالکل مختلف شے ہے لیکن اس کو تپائی کا متبادل کہا جا سکتا ہے۔

دو کرسیوں کے درمیان تپائی
ہر ایک میز سے آگے نکل گئی کرسی
بدل گئے رفقا جب بدل گئی کرسی
حرام مال سے جائز کمائی بہتر ہے
نئی چیئر سے پرانی تپائی بہتر ہے

حوالہ: نظم ’’ کرسی‘‘ شاعر  خالد عرفان :

نقش محبوب مصور نے سجا رکھا تھا
مجھ سے پوچھو تو تپائی پہ گھڑا رکھا تھا

[ حوالہ: نظم ‘‘ ایبسٹریکٹ آرٹ‘‘ شاعر۔ سید محمد جعفری۔ یو اڑ ایل]

: https://www.rekhta.org/nazms/abstract-art-syed-mohammad-jafri-nazms?lang=ur]

۔ یو آر ایل

[https://www.rekhta.org/nazms/kursii-khalid-irfan-nazms?lang=ur]

Follow us on social media for the stories on History, Heritage, Sufism, & Food
+ posts

Syed Yousaf Kazmi is a medical doctor & currently working as Assistant Professor (Microbiology). As a literary enthusiast, he is documenting the common "Urdu" words used in his childhood & now on the fading end in changing days especially in Pakistan.

Published by Syed Yousaf Kazmi

Syed Yousaf Kazmi is a medical doctor & currently working as Assistant Professor (Microbiology). As a literary enthusiast, he is documenting the common "Urdu" words used in his childhood & now on the fading end in changing days especially in Pakistan.

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)

RSS
Follow by Email